Study & Learn
Read every question, see the correct answer, and understand the explanation at your own pace. Study mode has no timer and no negative marking.
Correct answer
A. تین
Explanation
تین is the correct answer. Review the question and compare it with the other choices to remember this fact for future exams.
Correct answer
A. 63
Explanation
63 is the correct answer. Review the question and compare it with the other choices to remember this fact for future exams.
Correct answer
D. حضرت ثمامہ بن اُثال ؓ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
Explanation
حضرت ثمامہ بن اُثال ؓ رضی اللہ تعالیٰ عنہ is the correct answer. Review the question and compare it with the other choices to remember this fact for future exams.
Correct answer
B. حضرت جبرئیلؑ علیہ السلام
Explanation
حضرت جبرئیلؑ علیہ السلام is the correct answer. Review the question and compare it with the other choices to remember this fact for future exams.
Correct answer
D. حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ
Explanation
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ is the correct answer. Review the question and compare it with the other choices to remember this fact for future exams.
Correct answer
D. حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ
Explanation
حوالہ:- لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ ‘‘(حجرات:۲) ترجمۂکنزُالعِرفان: اپنی آوازیں نبی کی آواز پر اونچی نہ کرو۔ بخاری شریف کی روایت کے مطابق یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب بنو تمیم کا وفد سر کارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور یہ سن 9ہجری کا واقعہ ہے حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ثابت بن قیس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے گھر میں بیٹھ گئے اور (اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے) کہنے لگے: میں اہلِ نار سے ہوں ۔ (جب یہ کچھ عرصہ بارگاہِ رسالت میں حاضر نہ ہوئے تو) حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے اُن کا حال دریافت فرمایا، انہوں نے عرض کی: وہ میرے پڑوسی ہیں اور میری معلومات کے مطابق انہیں کوئی بیماری بھی نہیں ہے۔ حضرت سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرت ثابت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ نے کہا:یہ آیت نازل ہوئی ہے اور تم لوگ جانتے ہو کہ میں تم سب سے زیادہ بلند آواز ہوں (اور جب ایسا ہے) تو میں جہنمی ہوگیا ۔حضرت سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے یہ صورت ِحال حضور پُرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں عرض کی تو آپ نے ارشاد فرمایا: ’’(وہ جہنمی نہیں ) بلکہ وہ جنت والوں میں سے ہیں ۔( مسلم، کتاب الایمان، باب مخافۃ المؤمن ان یحبط عملہ، ص۷۳، الحدیث: ۱۸۷(۱۱۹))
Correct answer
A. محمد رضا شاہ پہلوی
Explanation
محمد رضا شاہ پہلوی is the correct answer. Review the question and compare it with the other choices to remember this fact for future exams.
Correct answer
A. ابو یحیےٰ
Explanation
ابو یحیےٰ is the correct answer. Review the question and compare it with the other choices to remember this fact for future exams.
Correct answer
C. حجاج بن یوسف ثقفی
Explanation
باکرامت برچھی جنگ بدرمیں سعید بن العاص کا بیٹا’’عبیدہ‘‘سر سے پاؤں تک لوہے کا لباس پہنے ہوئے کفار کی صف میں سے نکلا اورنہایت ہی گھمنڈاورغرورسے یہ بولا کہ اے مسلمانو! سن لو کہ میں ’’ابو کرش‘‘ہوں ۔ اس کی یہ مغرورانہ للکارسن کر حضرت زبیر بن العوام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُجوش جہاد میں بھرے ہوئے مقابلے کے لیے اپنی صف سے نکلے مگر یہ دیکھا کہ اس کی دونوں آنکھوں کے سوا اس کے بدن کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جو لوہے میں چھپاہوا نہ ہو۔آپ نے تاک کر اس کی آنکھ میں اس زور سے برچھی ماری کہ برچھی اس کی آنکھ کو چھیدتی ہوئی کھوپڑی کی ہڈی میں چبھ گئی اور وہ لڑکھڑا کر زمین پر گرااورفوراًہی مرگیا۔حضرت زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے جب اس کی لاش پر پاؤں رکھ کر پوری طاقت سے برچھی کو کھینچا تو بڑی مشکل سے برچھی نکلی لیکن برچھی کا سرا مڑکر خم ہوگیا تھا۔یہ برچھی ایک باکرامت یادگار بن کر برسوں تک تبرک بنی رہی۔ حضوراقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت زبیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے یہ برچھی طلب فرمالی اوراس کو اپنے پاس رکھا۔ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بعد خلفائے راشدین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے پاس یکے بعد دیگرے منتقل ہوتی رہی اوریہ حضرات اعزازواحترام کے ساتھ اس برچھی کی خاص حفاظت فرماتے رہے ۔ پھر حضرت زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے فرزندحضرت عبداللہ بن زبیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰیعَنْہَاکے پاس آگئی یہاں تک کہ ۷۳ھ میں جب بنو امیہ کے ظالم گورنرحجاج بن یوسف ثقفی نے ان کو شہید کردیا تو یہ برچھی بنوامیہ کے قبضہ میں چلی گئی۔ پھر اس کے بعد لاپتہ ہوگئی۔ (بخاری شریف ج۲، ص۵۷۰، غزوہ بدر)